نئی دہلی،23مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی ہائی کورٹ نے سی بی ایس ای کو ہدایت دی ہے کہ 2017 کے دسویں اور 12 ویں ٹیسٹ میں ماڈریشن پالیسی جاری رکھا جائے۔ ایگزیکٹو چیف جسٹس گیتا متل نے اس معاملے میں سماعت کرتے ہوئے کہا کہ کھیل شروع ہونے کے بعد قوانین تبدیل ہو سکتے۔آپ کو بتا دیں کہ سی بی ایس ای نے اس سال سے دسویں اور 12 ویں کے طالب علموں کے لئے ماڈریشن پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے خلاف وکیل آشیش ورما اور سرپرست راکیش کمار نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ پالیسی امتحان کے بعد ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے لگائی گئی جس کا طالب علموں کے اوپر بڑا برا اثر پڑے گا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن ابھی تک سی بی ایس ای کی ویب سائٹ پر دستیاب نہیں ہے۔ اس لئے اسے اگلے سال سے لاگو کیا جائے اور اس سال کے لئے نوٹیفکیشن منسوخ کیاجائے۔درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل بلویندر سنگھ نے کہا کہ کیرل، تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور چھتیس گڑھ نے اگلے سال سے اس بارے میں اہم نوٹیفکیشن کو لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہاں کے طالب علم دہلی کے طالب علموں سے اچھا مظاہرہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کو لاگو کرنے سے دہلی کے 12 ویں کے طالب علم دہلی یونیورسٹی کا کٹ آف مارکس تک نہیں پہنچ پائے گا۔ دہلی کے طالب علم ریاستی بورڈ کے طالب علموں سے بھی کم نمبر لائیں گے۔ماڈریشن پالیسی کے تحت طالب علموں کو مشکل سوالات کے لئے اضافی مارکس دینے کی تجویز ہے۔